جدید دنیا کے لیے دن کا آغاز آدھی رات کو 12:00 بجے ہوتا ہے — ایک ایسا خاموش لمحہ جب زیادہ تر لوگ سو رہے ہوتے ہیں اور ڈیجیٹل اسکرین پر تاریخ کا ہندسہ بدل جاتا ہے۔
لیکن انسانی تاریخ میں دن کے آغاز کے بارے میں کبھی اتفاق رائے نہیں رہا۔ یہودی روایات اور اسلامی تقویم میں دن کا آغاز غروب آفتاب کے وقت ہوتا ہے۔ جیسے ہی سورج افق کے نیچے اترتا ہے، نیا دن شروع ہو جاتا ہے؛ اسی لیے شب برات، شب قدر، یا شبت کی عبادات شام سے شروع ہوتی ہیں۔
قدیم مصریوں اور رومیوں کے ہاں بعض ادوار میں دن کا آغاز طلوع آفتاب سے مانا جاتا تھا — یعنی جب روشنی کی پہلی کرن پھوٹتی تو نیا دن گنا جاتا۔
سمندری جہاز رانی میں صدیوں تک بحری دن دوپہر کے وقت شروع ہوتا تھا، کیونکہ ملاحوں کے لیے سورج کی بلندی ناپ کر اپنا مقام جانچنے کا سب سے معتبر لمحہ شمسی دوپہر ہی تھا۔ آدھی رات کو دن کے آغاز کا عالمی معیار دراصل ریلوے، ٹیلی گراف اور جدید بینکنگ کی پیداوار ہے جس نے رات کے اندھیرے کو ایک انتظامی تقسیم بنا دیا۔