اگر زمین کے ٹائم زونز کو خالصتاً ریاضی دانوں کے سپرد کر دیا جاتا، تو ہر پندرہ ڈگری طول بلد پر ایک سیدھی لکیر ہوتی اور دنیا کے تمام زونز بالکل مساوی حصوں میں بٹے ہوتے۔
لیکن دنیا سیاست دان چلاتے ہیں، ریاضی دان نہیں۔ ٹائم زونز کی سرحدیں پہاڑوں، دریاؤں، اور سب سے بڑھ کر بین الاقوامی سیاسی سرحدوں کے ساتھ مڑتی ہیں۔
سب سے ڈرامائی مثال چین اور اس کے مغربی پڑوسیوں کے درمیان سرحد ہے۔ جب آپ چین کے مغربی سرے یعنی سنکیانگ کے قریب واقع ارومچی یا تبت کے لاسا سے افغانستان، پاکستان یا تاجکستان کی سرحد عبور کرتے ہیں، تو آپ کو اپنی گھڑی ڈھائی سے تین گھنٹے پیچھے کرنی پڑتی ہے — ایک ہی قدم میں وقت کی تاریخ کی سب سے بڑی چھلانگ!
یورپ میں اسپین اور پرتگال ایک ہی جزیرہ نما پر واقع ہیں، لیکن ان کے درمیان ایک گھنٹے کا فرق ہے کیونکہ اسپین وسطی یورپی وقت استعمال کرتا ہے جبکہ پرتگال مغربی یورپی وقت پر ہے۔ آپ دونوں ممالک کے درمیان ایک پل عبور کر کے ایک گھنٹہ آگے یا پیچھے جا سکتے ہیں۔