سورج جغرافیے کی وسعت کے مطابق ڈھلتا ہے، لیکن سیاست یکجہتی کی متلاشی ہوتی ہے۔ جب ایک وسیع و عریض ملک صرف ایک ٹائم زون چنتا ہے، تو فطرت اور قانون کے درمیان حیران کن کشمکش جنم لیتی ہے۔
اس کا سب سے بڑا مظہر چین ہے۔ جغرافیائی طور پر چین پانچ قدرتی ٹائم زونز پر محیط ہے، لیکن 1949ء سے پورا ملک صرف ایک ٹائم زون — بیجنگ ٹائم (UTC+8) — پر چلتا ہے۔ جب مشرقی ساحل پر واقع بیجنگ میں سورج طلوع ہوتا ہے، تو مغرب میں ہزاروں میل دور اب بھی تاریکی کا راج ہوتا ہے۔
سنکیانگ اور تبت میں اسکول اور دفاتر بیجنگ کے وقت کے مطابق شروع ہوتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بچے موسم سرما میں تاریکی میں کلاسوں میں پہنچتے ہیں اور گرمیوں میں رات کے گیارہ بجے سورج غروب ہوتا ہے۔
ہندوستان بھی 1.4 ارب سے زائد آبادی کے باوجود صرف ایک قومی ٹائم زون (IST, UTC+5:30) پر کام کرتا ہے۔ جب شمال مشرقی ریاست آسام میں سورج طلوع ہوتا ہے، تو مغربی ریاست گجرات میں لوگ اب بھی گہری نیند میں ہوتے ہیں۔ گجرات اور دہلی جیسے شہروں کے برعکس، آسام کے چائے کے باغات غیر رسمی طور پر اپنی گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے رکھتے ہیں تاکہ دن کی روشنی ضائع نہ ہو۔
اس کے برعکس روس گیارہ ٹائم زونز پر پھیلا ہوا ہے، جہاں ماسکو سے لے کر کامچٹکا تک گھڑیاں ہر سرحدی زون کے ساتھ بدلتی ہیں۔ آسٹریلیا اور کینیڈا بھی متعدد زونز میں منقسم ہیں، جہاں میلبورن اور پرتھ کے درمیان تین گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ ملائیشیا نے بھی 1982ء میں کوالالمپور اور صباح کو ایک گھڑی پر لایا۔ ایک ہی گھڑی پر براعظم چلانا بیوروکریسی کے لیے آسان ہو سکتا ہے، لیکن آسمان ہمیشہ اس کا جواب دیتا ہے۔