زیادہ تر ممالک اپنے جغرافیے کے اسیر رہتے ہیں، لیکن کچھ قوموں نے تاریخ اور معیشت کی رفتار بدلنے کے لیے اپنے ٹائم زون کو ہی کھینچ کر دوسری طرف کر دیا۔
سب سے حیران کن قدم کیریباتی نے 1994ء میں اٹھایا۔ یہ جزیرہ نما ملک بین الاقوامی تاریخ کی لکیر کے دونوں طرف پھیلا ہوا تھا، جس کا مطلب تھا کہ اس کے مشرقی اور مغربی جزائر کے درمیان چوبیس گھنٹے کا فرق تھا۔ جب دارالحکومت میں پیر ہوتا، تو مشرقی جزائر میں اتوار ہوتا، اور ہفتے میں صرف چار دن سرکاری رابطہ ممکن تھا۔ صدر کیریباتی نے تاریخ کی لکیر میں ایک وسیع مشرق کی طرف ابھار بنا کر پورے ملک کو UTC+13 اور UTC+14 میں متحد کر دیا — اور دنیا میں سب سے پہلے نیا سال دیکھنے والی قوم بن گئے۔
ساموا نے 2011ء میں ایسا ہی کیا تاکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ کام کرنے کے کاروباری دن ضائع نہ ہوں۔
ملائیشیا نے 1982ء میں جزیرہ نما ملائیشیا کی گھڑیاں آدھا گھنٹہ آگے بڑھا کر بورنیو کے علاقوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ یہ وہ جرات مندانہ فیصلے تھے جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ انسان وقت کے نظام کے سامنے بے بس نہیں بلکہ وہ اپنی ضرورت کے تحت وقت کے دھارے کا رخ موڑ سکتا ہے۔