گھڑی سے پہلے سورج کا سایہ تھا۔ اور سائے سے پہلے صرف یہ احساس تھا کہ روشنی بدلتی ہے اور رات آتی ہے۔ ان شہروں نے وقت کی پیمائش کے طریقے وضع کیے۔
قاہرہ اور قدیم مصر نے دن کو بارہ حصوں میں اور رات کو بارہ حصوں میں بانٹا — جس سے ہمیں چوبیس گھنٹے کا دن ملا۔ ان کے گھنٹے ربڑ کی طرح لچکدار تھے: موسم گرما کے دن کے گھنٹے طویل اور سردیوں کے گھنٹے چھوٹے ہوتے تھے، لیکن یہ تقسیم قائم رہی۔
ایتھنز اور روم نے پانی کی گھڑیاں (کلیسیپڈرا) بنائیں تاکہ عدالتوں میں وکلاء کی تقریروں کا وقت ناپا جا سکے، اور سورج کی روشنی کے بغیر بھی گزرتے لمحات کا حساب رکھا جا سکے۔
قرون وسطیٰ کے یورپ میں مکینیکل گھڑیوں کی آمد ہوئی۔ لندن کے گرینچ رصد گاہ نے 1884ء میں خط استوا کے بعد دنیا کا سب سے اہم خط کھینچا: پرائم میریڈین، جس سے دنیا کا ہر ٹائم زون ماپا جاتا ہے۔
پیرس نے میٹر اور سیکنڈ کی جدید سائنسی تعریفیں وضع کیں، اور دنیا کے بیورو آف ویٹس اینڈ میژرز کا مرکز بنا۔
شکاگو میں ریلوے کے منتظمین نے 1883ء میں معیاری ریلوے وقت نافذ کیا، جس نے مقامی شمسی وقت کے ہزاروں مبہم نظاموں کو جدید ٹائم زونز میں بدل دیا۔
برلن، کوپن ہیگن اور زیورخ نے کوارٹز، ٹائم کیپنگ اور پھر جوہری گھڑیوں کے انقلابات میں بنیادی کردار ادا کیا، جبکہ ویلنگٹن اور نیوزی لینڈ نے جارج ہڈسن کی بدولت ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا تصور دنیا کے سامنے پیش کیا۔